Wednesday, August 31, 2016

میرے شہر والے : عبدالشکور پٹھان



کتاب کیا ہے ایک طلسم ہوش ربا ہے۔ اس میں کراچی بھی ہے ، کراچی والے بھی۔ یہ کراچی  نہ مہاجروں کا کراچی ہے نہ سندھیوں کا,نہ پٹھانوں کا نہ پنجابیوں کا، نہ جماعت کا نہ ایم کیو ایم کا، نہ مسلم لیگ کا نہ پیپلز پارٹی کا ..  صرف کراچی ہے کراچی والوں کا کراچی .. نوحہ غم اور نغمہ شادی کا حسین امتزاج۔  بیک وقت کراچی کے خوبصورت ماضی کا ماتم بھی ہے اور اس ماضی  پر فخر بھی ہے، حال کا نوحہ بھی ہے اور مستقبل کی امید بھی  

کراچی اور کراچی والوں کے بارے میں بہت کچھ نیا جاننے کو ملا، صرف کراچی ہی نہیں پاکستان کے بارے میں بھی، کیونکہ کراچی منی پاکستان بھی تو ہے۔ جیسے علامہ  محمد اسد ( لیو پولڈ)  کے بارے میں پتا چلا کہ وہ پاکستان کے پہلے باضابطہ شہری تھے، کراچی کے معمار جیمز اسٹریچن کے بارے میں پہلی بار پڑھا۔

محض ایک کتاب نہیں, کراچی کی سیاسی، سماجی اور  تقافتی تاریخ ہے, میرے والدین کی نسل کی جوانی اور میری نسل کا بچپن ہے. میرے بچپن کی ساری دلچسپیاں, محبتیں, رومانس, شرارتیں, پریشانیاں , خوف، کھیل تماشے سب کچھ ہے اس میں ۔ ۔ ۔ ۔ 

 کتاب کا مقصد کراچی کی مشہور و معروف شخصیات کا قارئین سے تعارف کروانا ہے۔ کراچی پاکستان کے دیگر شہروں کی نسبت کم عمر شہر ہونے کے باوجود لاتعداد معروف پاکستانیوں کے تعارف کا حوالہ رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمیں کتاب میں کچھ تشنگی محسوس ہوئی۔ جیسے کہ کچھ شخصیات کو بہت جلد بازی میں نپٹا دیا گیا ہے مثلا یوسفی صاحب ۔۔ یوسفی صاحب کے بارے میں ابن انشاء کا کہنا ہے کہ "ہم مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں۔" ان کے بارے میں محض چند سطریں ہی ہیں۔ اسی طرح فلم اسٹار ندیم اور وحید مراد کے بارے میں بھی تشنگی محسوس ہوئی۔

اسی طرح  کراچی کی بہت ساری ایسی شخصیات کے تذکرے کی کمی محسوس کی گئی جو کراچی کی آن بان اور شان ہیں جیسے کہ طاہرہ واسطی/ رضوان واسطی، بہروز سبزواری، نیلوفر علیم ،ڈاکٹر شیر شاہ سید ، ڈاکٹر محمد علی شاہ اور شہنشاہ ظرافت عمر شریف۔ کراچی کے ٹیلیوژن ڈراموں کے عرصہ دراز تک اکلوتے ہیرو شکیل کا تعارف بھی شامل نہیں لیکن ہمیں امید ہے کہ کتاب کے اگلے ایڈیشن میں ان مشاہیر کا تعارف شامل ہوگا۔

یہ کتاب ان کے لیے ہے کراچی جن کے دل میں بستا ہے۔ کیا خوب تبصرہ کیا ہے کسی نے کہ کاش کوئی ایسی کتاب لاہور کے بارے میں بھی لکھے۔ 


No comments:

Post a Comment